9 جون 2011 - 19:30

بحرین میں ایمرجنسی کے خاتمے کے جھوٹے اعلان کے باوجود مارشل لا کا دور دورہ ہے اور آج بحرینی عوام نے اسیر خواتین کی حمایت میں مظاہرے کئے تو خلیفی فورسز نے سعودی جارحین کی مدد سے ان پر وحشیانہ حملے کرکے انہیں منتشر کیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سِترہ کے علاقے کے عوام نے آج آل خلیفہ اور آل سعود کے ہاتھون گرفتار ہونے والی خواتین کی حمایت میں مظاہرہ کیا اور جبر و ظلم کے سلسلے کے خاتمے اور تمام خواتین کو غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ الدیہ کے علاقے میں بھی آل خلیفہ کے بیرونی غنڈوں اور آل سعود کے کرائے کے جارحین کے پرتشدد اقدامات کے باوجود انقلاب کے مقاصد کے حصول اور عوامی مطالبات کے حق میں نماز جمعہ کے بعد زبردست مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے عرب اور مسلمان کہلوانے والے جارحین و غاصبین کے غیر انسانی اور غیر اسلامی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے آل سعود کے فوری انخلاء اور تمام قیدیوں کی رہائی نیز آل خلیفی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ یاد رہے کا باوثوق ذرائع کی رپورٹوں کے مطابق آل سعود کی سرکاری اعلان کے مطابق بحرین میں 12 سو سعودی فوجی کاروائیاں کررہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں آل سعود کے 10 ہزار باقاعدہ فوجیوں کے علاوه ہزاروں وہابی دہشت گرد بھی کاروائیوں میں مصروف ہیں جو وہابی مفتیوں کے حکم پر اہل تشیع کے خلاف ان کے بقول جہاد کرنے آئے ہیں اور خلوص کامل کے ساتھ امریکی مفادات کی حفاظت کررہی ہیں۔بنی جمرہ اور کرزکان کے علاقوں میں بھی عوام نے نماز حمعہ کے بعد ریلیاں نکالیں اور آل سعود و آل خلیفہ کے غنڈوں نے ان پر حملہ کرکے انہیں منتشر کردیا۔ آل خلیفہ کے غنڈوں نے آل سعود کی فورسز کی مدد سے آج بحرین کے اکثر علاقوں میں نکالے جانے والے احتجاجی ریلیوں پر حملے کئے۔ بحرینی عوام نے 14 فروری کے انقلابی نوجوانوں کے اتحاد کی دعوت پر پورے بحرین میں آج اسیر خواتین کی رہائی کے لئے ریلیاں نکالیں اور مظاہرے کئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110